Thursday, 26 October 2017



اساتذہ کے لئے سینئر اور سلیکشن اسکیل پر خصوصی رپورٹ


اساتذہ کے لئے سینئر اور سلیکشن اسکیل کے حکومت مہاراشٹر کی  نئ پالیسی سے ریاست کے تمام اساتذہ میں ناراضگی.
حکومت مہاراشٹر کے محکمہ تعلیم و کھیل کے پرنسپل سیکرٹری جناب نند کمار نے بتاریخ 23 اکتوبر 2017 کو اس نئ پالیسی کا اعلان کیا.

ممبراء . حکومت مہاراشٹر کے محکمہ تعلیم و کھیل کے پرنسپل سیکرٹری جناب نند کمار نے اساتذہ کے لئے سینئر(12سال 
کی سروس کے بعد) اور سلیکشن (24سال کی سروس کے بعد )ملنے والے اسکیل پالیسی میں ترمیم کرتے ہوئے بتاریخ 23 اکتوبر 2017 کو نئ پالیسی کا اعلان کیا. اس نئ پالیسی کے خلاف ریاست کے تمام اساتذہ میں شدید ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے.

یہ اسکیل کیوں دیا جاتا ہے ؟

مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت کے ملازمین کو اپنے ہی محکموں میں ترقی (پروموشن) کے زریعہ اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے مواقع فراہم ہیں جس کی وجہ سے وہ ملازمین کو اس اسکیل کا فائدہ اٹھاتے ہیں. لیکن اساتذہ کو یہ مواقع میسر نہ ہونے سے وہ اس اسکیل سے محروم رہے جاتے تھے. اس لئے اساتذہ کو یہ اسکیل دیا جاتا ہے
کیا ہے یہ سینئر اسکیل اور سلیکشن اسکیل ؟
ریاست کے تمام حکومت سے منظور شدہ اسکولوں میں اپنی خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو یکم جنوری 1986 کے چوتھے پے کمیشن سفارشات کے مطابق اور 2 ستمبر 1989 کے جی آر کے مطابق اساتذہ کو تھری استری( त्रिस्तरीय वेतन श्रेणी ) دینے کا اعلان کیا گیا تھا.

یہ اسکیل کن اساتذہ کو دیا جاتا ہے ؟

ضلع پریشد، مہا نگر پالیکا، نگر پالیکا، نگر پریشد، اور تمام گرانٹیڈ اسکولوں میں
 بارہ سال کی خدمت انجام دینے والے اساتذہ کو سینئر اسکیل ( वरीष्ठ वेतन श्रेणी ) کا فائدہ دیا جاتا ہے.
چوبیس سال کی خدمت انجام دینے والے اساتذہ کو سینئر اسکیل  निवड वेतन श्रेणी /चटोप्पाध्याय वेतन श्रेणी) کا فائدہ دیا جاتا ہے.

اس اسکیل کو دینے کا طریقہ کار...(پرانی پالیسی کے مطابق)

1.سروس کے 12/24 سال مکمل ہونے چاہئیں.
2ضرورت کے مطابق ٹریننگ مکمل ہونی چاہیے
3. سرکیولر میں دیے گئے فارمیٹ کے اپنا پروپوزل ایجوکیشن آفیسر کے پاس جمع کریں.
4 سرکیولر میں دئیے گئے گائیڈ لائن کے مطابق تنخواہ میں اضافہ کیا جاتا ہے.

نئ پالیسی کے مطابق شرائط

24/12. 1 سال سروس مکمل کرنے والے اساتذہ کی فہرست تیار کی جائے گی اور DIECPD اور ودیا پردھیکرن  کے زریعہ ٹریننگ کا انتظام کیا جائے گا.

2 حکومت اور ودیا پردھیکرن کی جانب سے ٹریننگ کا نظام الاوقات کا اعلان کیا جائے گا.
3. بارہ یا چوبیس سال سروس مکمل کرنے والے اساتذہ کو ٹریننگ میں حاضر رہنا لازمی ہوگا.
4 ان تربیت یافتہ اساتذہ میں سے......
پرائمری (اول تا ہشتم)
جن اساتذہ کی اسکول پرگت ہوگی اور شالہ سدھی کے تحت A گریڈ حاصل ہو گا  و
سیکنڈری اسکول (نویں و دسویں)
دسویں جماعت کا اسکول کا رزلٹ 80% ہوگا
صرف ایسے ہی اساتذہ کو ہی یہ اسکیل دیا جائے گا.

اساتذہ کی ناراضگی کی وجہ.....

سن1989 میں چوتھے پے کمیشن نے کافی غور و فکر کےسفارشات کے بغیر کسی مشکل شرائط کےمطابق یہ اسکیل کا فائدہ اساتذہ کو دیا گیا تھا لیکن کس بھی قسم تحقیق کے نئ پالیسی کو اساتذہ پر زبردستی تھوپا جارہا ہے.
ایک طرح سے یہ پالیسی سے اساتذہ کی حق طلفی ہو رہی ہے.
اس نئ پالیسی کا مدعا نمبر 4 کی شرط کو مکمل کرنا صرف اور صرف اساتذہ کے ہی اختیار میں نہیں ہے بلکہ حکومت اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں اس بنا پر اس شرط کو پورا کرنا.... ممکن نہیں ہے.

(اس مضمون کا مقصد تمام اساتذہ تک صحیح اور مکمل معلومات پہنچانا ہے.)
                                                           8097823477(aneesbeldar@gmail.com)  


7 comments:

  1. بہت پرمغز اور حکومت کی دوغلی اور ناانصافی پر مبنی پالیسی کو بے نقاب کرنے والی تحریر. اگر حکومت اساتذہ پر زبردستی اور بے جا دباؤ ڈالے گی تو کبھی بھی تعلیمی ترقی نہیں یو پائے گی. اساتذہ کے نمائندوں کو اربابِ اقتدار سے گفت و شنید کرکے اپنے مسائل رکھنا چاہیے اور حکومت کی اس پالیسی کے منفی نتائج سے بھی باخبر کرنا چاہیے.
    آپ کا بلاگ پسند آیا. ایسے ہی کوشش کرتے رہیں.

    ReplyDelete
    Replies
    1. Bahot acha blog hai. Mashaallah Allah aapko jazai khair ata farmaye. Aameen

      Delete
  2. جزاکم اللہ خیرا و احسن برادرم

    ReplyDelete
    Replies
    1. This comment has been removed by the author.

      Delete
  3. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  4. حکومت کی نت نئ پالیسیوں سے اساتذہ کو باخبر کرنے اور ان کی مکمل رہنمائی کرنے کی آپ کی کوشش کو سلام سر ۔

    ReplyDelete